Designing With Web Standards, 3/E

Front Cover
Pearson Education, 2010 - 432 pages

What people are saying - Write a review

User Review - Flag as inappropriate

مالیہ کے رہائشی خاص طور پر طالب علم اس کاضرور مطالعہ کریں........
ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تحصیل کمالیہ کی تاریخ اس علاقہ میں آباد کاری کے لحاظ سے ہڑپہ اور موہنجودڑو سے ملتی ہے۔ تاہم تباہیوں کے بعد
دریائے راوی کے کنارے آباد اس کے نام اور مقامات تبدیل ہوتے رہے۔ یہ علاقہ کپاس کی پیداوار کے حوالہ سے آج بھی زرخیز جانا جاتا ہے۔ کپڑا انسان کی بنیادی ضرورت رہا ہے۔ اور سوتی کپڑے کی ابتدا درحقیقت کھدر سے ہی ہوئی ہے۔ جو صرف دو قدرتی رنگوں کریم اور خاکی (کیمل کلر) رنگ میں فصل کپاس کی کاشت سے روئی کی شکل میں حاصل ہوتا ہے۔ کمالیہ کا ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ دو سال قبل بھی کپاس کی کاشت میں پیدا وار کے حوالہ سے پنجاب میں دوسرے نمبر پر رہا۔ کپڑے کی تیاری کیلئے ہر علاقہ میں فصل کپاس کاشت کی جاتی تھی۔ لیکن اس علاقہ میں کپاس کی کاشت کی انفرادیت خاکی (کیمل کلر) رنگ کی فصل کاشت کرنا تھا۔ جس کی روئی سے کیمل کلر کا کپڑا تیار کیا جاتا تھا، جس کا نام کھدر دیا گیا ۔ یہ کیمل کلر کی کپاس اس علاقہ میں وسیع اراضی پر کاشت ہوتی تھی۔ اس رنگ میں تیار کیمل کلر والا قدرتی رنگ کا کھدر وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنے مخصوص رنگ کی وجہ سے مشہور ہوتا چلا گیا۔ اس انداز میں تیار ہونے والے کپڑے میں پاور لومز کے آنے کے بعد ترقی کرلی اور مختلف کوالٹی اور مختلف رنگوں میں تیار ہونے لگا۔ جبکہ قدرتی کیمل کلر کا تیار کھدر صرف دستی کھڈی تک محدود ہو کر رہ گیا۔ جس کا عروج تیس پینتیس سال قبل تک تھا۔ جہاں اس علاقہ میں دو ہزا رسے زائد دستی کھدر تیار کرنے والی کھڈیاں لگی ہوئی تھیں وہاں آج صرف تیس کے لگ بگھ رہ گئی ہیں۔ اور ان کی جگہ پاور لومز فیکٹریوں نے لے لی ۔ دستی کھڈی پر جہاں ایک مزدور روزانہ دس میٹر تک کھدر تیار کرتا ہے وہاں پاور لومز فیکٹریوں میں ہزاروں میٹر کھدر تیار کر لیا جاتا ہے۔ قدرتی یعنی دیسی جن میں خاکی اور سفید رنگ کی کپاس شامل تھی پر بحران تب آیا جب حکومتی سطح پر دیسی کپاس کاشت کرنے پر اس لیے پابندی لگائی گئی کہ اس کی پیداوار کم ہے اور کپاس کی نئی وراٹیاں تیار کرلی گئی ہیں۔ جبکہ آج زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ دیسی کپاس واحد ایسی قسم ہے جس پر وائرس کا حملہ نہیں ہوتا۔ دیسی کپاس کی کاشت پر پابندی سے خاکی رنگ کی کپاس کو اس حد تک نقصان ہوا کہ آج اس قدرتی رنگ کی کپاس کے بارے میں اس ملک کے 90 فیصد نوجوان نہیں جانتے۔ سفید رنگ کی کپاس کی پیداوار میں اضافہ کےلیے اعلیٰ اقسام تیار کی گئیں۔ لیکن خاکی کپاس کو مسلسل نظر انداز کیا گیا اور ہم اس خا کی رنگ کی کاٹن سے تقریباً محروم ہو تے جارہے ہیں۔ اور اب یہ کپاس وہاڑی ، ہارون آباد اور چشتیاں میں مختصر رقبے پر کاشت کی جاتی ہے۔ لیکن آج بھی اس خاکی رنگ کی کپاس کو کھدر کے سوٹ کی شکل میں 

Other editions - View all

Bibliographic information